بھٹکل:3/اکتوبر(ایس او نیوز) تعلقہ کے بینگرے علاقے میں سوروں کے پاگل پن سے دھان کی فصل کو سخت نقصان پہنچا ہے۔کسانوں نے بتایا کہ 20سے زائد ایکڑ کھیتوں میں سوروں کی بھاگ دوڑدیکھی گئی ہے ، کسان اپنے فصل کی نگرانی سے زیادہ سوروں کو بھگانے میں لگے ہوئے ہیں اور سوروں کی وجہ سے فصلیں برباد ہونے سے سخت پریشان ہیں
بینگرے گرام پنچایت حدود کے سنّملاری ، بنگارمکی ، کالمّنے منے کے نواحی علاقوں میں اور ملاری کمبارکیری علاقے میں سوروں نے ہنگامہ مچارکھا ہے۔ جن کھیتوں میں سوروں کی بھاگ دوڑ سے نقصان ہورہاہے ان کے مالکان کی شناخت منجوناتھ نائک، شنیار نائک، گنپتی نائک، تمیا نائک، گنپتی دیواڑیگاکے طورپر کی گئی ہے۔ کسانوں نے ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اکثر سور رات کے اوقات میں کھیت میں گھس کرگھڑے بناتے ہیں ، کیچڑ میں ماردھاڑ کرتے ہوئے فصل کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اس سے پہلے کہ دھان کی جڑین زمین میں اچھی طرح پیوست ہوتی، اُس کو اُکھاڑ دیتے ہیں، فصل کاٹنے کےلئے صرف 15-20دن باقی ہیں، بارش کی مار سے بچ کر فصل کو گھر لے جانے والے کسانوں کو سوروں کی بھاگ دوڑ نے مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ رات کے وقت جھنڈ کی شکل میں سوروں کو کھیتوں میں گھستےہوئے دیکھنے کے بعد ایک دو لوگوں کو کھیت میں رات بھر میں سکیورٹی گارڈ بن کر جاگتے رہنا ضروری ہوگیا ہے۔ کسانوں نے بتایا کہ رات کو کھیتوں کی حفاظت کرنے کے دوران خوف بھی لگا رہتاہے کہ کہیں سوروں کا جھنڈ ان پر حملہ نہ کردے۔ علاقے کے کسان اپنے پورے سال کی غذا کابندوبست اسی زمین پر اُگنے والی فصل سے پورا کرتے ہیں ، سوروں کی اتھل پتھل نے انہیں کافی حیران کردیا ہے۔ علاقہ کے تمام کسان متحدہوکر سوروں کو ختم کرکے محفوظ ہونا چاہتے ہیں تو فاریسٹ کا قانون رکاوٹ بنا ہواہے، کسانوں نے الزام لگایا کہ سور کے گوشت کی بو پاتے ہی چھاپہ ماری کرنے والافاریسٹ عملہ سوروں کوبھگانے کے لئے کوئی قدم نہیں اُٹھارہے ہیں۔۔ اس تعلق سے گرام سبھا میں کئی مرتبہ فاریسٹ افسران کے روبرومسئلہ پیش کیا گیا ، مگر ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ ہزاروں روپئے خرچ کرکے اگائی گئی فصل کو فی ایکڑ 600 روپئے دینے کی بات کرتے ہیں، لیکن کسان سوال کررہے ہیں کہ یہ معمولی رقم لے کر کریں بھی توکیا کریں۔ عوام کی مانگ ہے کہ کسانوں کے برے وقت میں ان کی مدد کے لئے انتظامیہ کو توجہ دینی چاہئے اور مناسب اقدام کرتے ہوئے ان کی راحت کاری کاکام کرنا چاہئے۔ اس سلسلے میں وضاحت کرتے ہوئے اے سی ایف نندیش ریڈی نے بتایا کہ جنگلی جانوروں سے ہونے والے نقصانات کی بھرپائی اور معاوضہ کو اداکرنے کے لئے محکمہ تیار ہے ، معاوضہ کے متعلق حکومت نے نیا حکم نامہ جاری کیا ہے، اس کے مطا بق کارروائی کی جائے گی۔